سہیل آفریدی نے کہا کہ جب وہ اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے لیے جاتے ہیں تو انہیں باہر انتظار کرنا پڑتا ہے، اس لیے کم از کم ملاقاتیوں کے لیے مناسب انتظار گاہ قائم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی صحت جیل میں خراب ہوئی، ان کے بھی بنیادی حقوق ہیں اور ان کا علاج ان کے ذاتی معالجین سے کرایا جانا چاہیے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو ان کے بیٹوں سے ویڈیو لنک کے ذریعے بات کرنے کی اجازت دی جائے، جبکہ اگر ان کی بہنوں سے ملاقات ممکن نہیں تو ان پر واٹر کینن کا استعمال بھی نہیں ہونا چاہیے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں عمران خان کے وژن کے مطابق قیدیوں کو تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جمہوری نظام میں جلسے جلوس کی اجازت ہونی چاہیے، لیکن یہاں جلسوں پر مقدمات درج کیے جاتے ہیں اور کم عمر بچوں تک کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جیل اصلاحات کا آغاز اڈیالہ جیل سے ہونا چاہیے۔