واشنگٹن / تہران — امریکی سینٹرل کمانڈ نے آبنائے ہرمز میں تین تجارتی بحری جہازوں پر ایرانی حملوں کے جواب میں ایران کے خلاف نئے فوجی حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ امریکی سینٹ کام نے کہا کہ یہ کارروائی اس لیے کی گئی تاکہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی بھاری قیمت عائد کی جا سکے۔ حملے ایران کے جزیرہ قشم، بندر عباس اور سیریک پر کیے گئے جن میں متعدد افراد زخمی ہوئے تاہم کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔
تین ٹینکروں پر حملے
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کے قریب تین بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔ پہلے ٹینکر پر آبنائے ہرمز سے نکلتے وقت حملہ ہوا اور وہ اپنی منزل تک پہنچنے میں کامیاب رہا۔ دوسرے ٹینکر کو معمولی نقصان پہنچا۔ تیسرا تیل بردار جہاز عمان کے جزیرہ نما مسندم سے تقریباً 6 بحری میل کے فاصلے پر حملے کی زد میں آیا جس میں آگ بھڑک اٹھی تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ نشانہ بنائے گئے دو جہازوں کا تعلق قطر اور سعودی عرب سے تھا جنہوں نے حملے کا ذمہ دار ایران کو قرار دیا۔
MOU کی خلاف ورزی کا الزام
ایران کے نائب وزیر خارجہ نے امریکی حملوں کو دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ ماہ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی قرار دیا اور خبردار کیا کہ تہران فیصلہ کن اقدامات کرے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر لکھا کہ اگر دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہا تو حتمی معاہدے سے متعلق مذاکرات شروع نہیں ہوں گے اور امریکہ کو مخاطب کیے بغیر صرف یہ لکھا کہ اپنے دستخط کا پاس رکھیں۔
ایران کا موقف
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق قطر کے آئل ٹینکر نے امریکی بحریہ کی مدد سے آبنائے ہرمز میں عمانی راستے سے گزرنے کی کوشش کی لیکن بار بار تنبیہ کو نظر انداز کرنے کے بعد اسے نشانہ بنایا گیا۔ ایران کا کہنا ہے کہ جنوبی راستہ جسے امریکہ کی حمایت حاصل ہے مفاہمتی یادداشت میں درج ایرانی انتظامات کی خلاف ورزی ہے۔
پابندیاں بھی بحال
حملوں سے قبل امریکی محکمہ خزانہ نے وہ استثنیٰ منسوخ کر دیا تھا جس کے تحت ایران کو تیل فروخت کرنے کی عارضی اجازت دی گئی تھی۔ ایران نے اس اقدام کو امریکی حکومت کی بد نیتی اور ناقابل اعتبار ہونے کا ثبوت قرار دیا۔
صورتحال انتہائی کشیدہ
یہ تمام واقعات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس جاری ہے اور صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ یا تو ایران کے ساتھ معاہدہ کرے گا یا پھر کام تمام کر دے گا۔ خطے میں کشیدگی ایک بار پھر انتہائی خطرناک سطح پر پہنچ گئی ہے۔

