اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملک کے موجودہ سیاسی، انتظامی اور معاشی نظام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش مسائل عارضی اقدامات، کانفرنسوں اور تقاریر سے حل نہیں ہوں گے۔ ملک کو مستقل بنیادوں پر آگے بڑھانے کے لیے سیاسی جماعتوں، کاروباری برادری اور دیگر بااثر طبقات کو ایک میز پر بیٹھ کر نظام میں بنیادی اصلاحات کرنا ہوں گی۔
اسلام آباد میں پہلی پاکستان اکنامک سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ وہ عموماً سیاسی تقریر سے گریز کرتے ہیں، تاہم موجودہ حالات میں کچھ تلخ حقائق بیان کرنا ضروری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان سمیت ہر علاقے کے لوگ اپنے مسائل بیان کر رہے ہیں، لیکن ان مسائل کی ذمہ داری کسی ایک حکومت، جماعت یا ادارے پر عائد نہیں کی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان آج جس مقام پر کھڑا ہے، اس کی ذمہ داری سیاسی قیادت، کاروباری طبقے، ریاستی اداروں اور نظام سے فائدہ اٹھانے والے تمام حلقوں پر عائد ہوتی ہے۔ ملک کئی دہائیوں سے ایک ہی نوعیت کے مسائل کا سامنا کر رہا ہے، لیکن بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کے بجائے عارضی اقدامات کے ذریعے وقت گزارا جاتا رہا۔
موجودہ نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے
وفاقی وزیر داخلہ نے دوٹوک انداز میں کہا کہ لوگ تسلیم کریں یا نہ کریں، ملک کا موجودہ نظام منہدم ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق اگر یہی سیاسی اور انتظامی ڈھانچہ برقرار رہا تو دس سال بعد بھی پاکستان میں ایسی ہی کانفرنسیں منعقد ہوں گی اور انہی مسائل کا ذکر کیا جا رہا ہوگا۔
محسن نقوی نے کہا کہ ملک کے مسائل سب کے سامنے ہیں اور ان کا حل بھی معلوم ہے، لیکن اصل مشکل فیصلے کرنے کی کمی ہے۔ جب تک تمام متعلقہ فریق نظام کو درست کرنے کا فیصلہ نہیں کرتے، حالات میں حقیقی تبدیلی ممکن نہیں ہوگی۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ جمہوریت کے بھرپور حامی ہیں، لیکن جمہوریت کے اندر بھی مختلف انتظامی ڈھانچے اور طریقۂ کار اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ جمہوریت کا مطلب یہ نہیں کہ ایک ناکام انتظامی نظام کو بغیر کسی اصلاح کے مسلسل گھسیٹا جاتا رہے۔
قومی سطح پر سیاسی اتفاقِ رائے کی ضرورت
وزیر داخلہ نے تمام سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ قومی مسائل پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے لیے ایک کمرے میں بیٹھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس عمل میں ایک دن، ایک ماہ یا ایک سال لگے، لیکن ملک کے بنیادی مسائل کا مستقل فیصلہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر نظام کی اصلاح، نئے انتظامی یونٹس، صوبوں، بلدیاتی اختیارات، آبادی، معیشت، تعلیم، صحت اور انصاف جیسے معاملات پر متفقہ لائحہ عمل بنانا ہوگا۔
محسن نقوی کے مطابق جب تک سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر بڑے فیصلے نہیں کریں گی، ملک اسی طرح چلتا رہے گا۔ سمٹ، سیمینار اور کانفرنسیں منعقد ہوتی رہیں گی، لیکن عوام کی زندگی میں عملی تبدیلی نہیں آئے گی۔
نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی تجویز
محسن نقوی نے اپنے خطاب میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام پر قومی بحث شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور عوامی ضروریات کے پیشِ نظر موجودہ انتظامی نظام ناکافی ہو چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں صوبے کہا جائے، انتظامی یونٹس یا کوئی اور نام دیا جائے، اصل مقصد حکومت، اختیارات اور بنیادی سہولیات کو عوام کے قریب پہنچانا ہونا چاہیے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک نے اپنی بڑھتی ہوئی آبادی اور انتظامی ضروریات کے مطابق نئے صوبے اور انتظامی علاقے قائم کیے۔ پاکستان میں بھی اس معاملے کو جذباتی یا سیاسی نعرے کے بجائے انتظامی ضرورت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کے معاملے پر پارلیمنٹ، سیاسی جماعتوں، جامعات، کالجوں، میڈیا، وکلا، کاروباری برادری اور دانشوروں کے درمیان سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔ اس کے تمام فوائد اور ممکنہ نقصانات عوام کے سامنے رکھے جائیں اور حتمی فیصلہ عوامی رائے کی بنیاد پر کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر عوام اختیارات اور وسائل کا مرکز اپنے قریب چاہتے ہیں تو اس مطالبے کا احترام کیا جانا چاہیے۔ تاہم ایسا کوئی فیصلہ عوامی مرضی کے برخلاف مسلط نہیں ہونا چاہیے۔
حکومت تک عام شہری کی رسائی مشکل
محسن نقوی نے کہا کہ عام پاکستانی کو بڑی بڑی تقریروں سے زیادہ بنیادی سہولیات، انصاف، روزگار اور حکومت تک آسان رسائی درکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے دور دراز علاقوں کے شہری معمولی سرکاری یا عدالتی کام کے لیے کئی گھنٹے سفر کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ عوام کو پولیس، عدالت، صحت، تعلیم اور انتظامیہ کی سہولیات ان کے اپنے علاقوں میں ملنی چاہییں۔
ان کے مطابق جب تک اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں ہوں گے اور مقامی انتظامیہ کو اپنے علاقوں کی ذمہ داری نہیں دی جائے گی، عوامی مسائل مؤثر انداز میں حل نہیں کیے جا سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایک ہی گلی یا سڑک بار بار بنائی جاتی ہے، فنڈز خرچ ہوتے ہیں، لیکن کسی سے جواب طلبی نہیں ہوتی۔ تمام متعلقہ افراد کو خرابیوں کا علم ہونے کے باوجود نظام درست کرنے کی عملی کوشش نہیں کی جاتی۔
قرضوں اور خسارے پر چلنے والی معیشت
وفاقی وزیر داخلہ نے ملک کی مالی حالت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت ہر سال خسارے کا بجٹ بناتی ہے اور یہ سوچتی ہے کہ آئندہ سال مزید کتنے قرضے لینے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلسل قرض لیتا ہے، لیکن ان بنیادی خرابیوں کو درست نہیں کرتا جن کی وجہ سے قرضوں کی ضرورت پیدا ہوتی ہے۔ یہ طریقہ زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا۔
محسن نقوی کے مطابق حکومتیں عارضی بحرانوں سے نمٹتی رہتی ہیں، لیکن معیشت کے بنیادی ڈھانچے، ٹیکس نظام، انتظامی اخراجات، برآمدات اور کاروباری ماحول کو مستقل بنیادوں پر بہتر نہیں کیا جاتا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مختلف صنعتوں کے ذریعے اربوں ڈالر کی برآمدات کرنے کی صلاحیت موجود ہے، لیکن نظام میں موجود رکاوٹوں، غیر ضروری ضابطوں اور ناقص فیصلہ سازی کے باعث ملک اپنی مکمل معاشی صلاحیت سے فائدہ نہیں اٹھا پا رہا۔
وزیراعظم کی کوششیں اور وقتی بحرانوں کا مقابلہ
محسن نقوی نے وزیراعظم شہباز شریف کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم دن رات کام کر رہے ہیں اور حکومت مسلسل قومی اور بین الاقوامی بحرانوں سے نمٹنے میں مصروف ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی کامیابیوں اور بڑھتی اہمیت کو تسلیم کیا جا رہا ہے، لیکن یہ تمام کوششیں ایک طرح سے فوری بحرانوں پر قابو پانے کے مترادف ہیں۔
ان کے مطابق بیرونی سطح پر کامیابیوں کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر سیاسی، انتظامی اور معاشی نظام بھی درست کرنا ہوگا۔ اگر اندرونی بنیادیں کمزور رہیں تو وقتی کامیابیاں مستقل ترقی میں تبدیل نہیں ہو سکیں گی۔
نوجوان امداد نہیں، میرٹ اور مواقع چاہتے ہیں
وزیر داخلہ نے نوجوانوں کے مسائل کو تقریر کا اہم حصہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومتیں یہ سمجھتی ہیں کہ چند ہزار روپے کا وظیفہ، لیپ ٹاپ یا ٹیبلٹ دے کر نوجوانوں کو مطمئن کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان صرف مالی امداد یا وقتی سہولت نہیں چاہتے۔ انہیں میرٹ، انصاف، روزگار، معیاری تعلیم اور ایسا نظام چاہیے جس میں وہ اپنی قابلیت کی بنیاد پر آگے بڑھ سکیں۔
محسن نقوی کے مطابق پاکستان اس وقت نوجوانوں کو وہ منصفانہ ماحول فراہم نہیں کر پا رہا جس کے وہ حق دار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان نظام سے مایوس اور ناراض ہو رہے ہیں۔
انہوں نے نوجوان نسل کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں نوجوان کہیں، کاکروچ کہیں یا کوئی اور نام دیں، لیکن اگر یہی نوجوان ایک قوت اور ایک یونٹ بن گئے تو وہ پورا نظام تبدیل کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کی بے چینی کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کی بات سننے، انہیں فیصلہ سازی میں شامل کرنے اور ان کے لیے حقیقی مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
کاروباری طبقہ بھی ذمہ دار ہے
محسن نقوی نے سمٹ میں موجود کاروباری رہنماؤں، صنعت کاروں اور تجارتی تنظیموں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے موجودہ سیاسی اور معاشی نظام میں کاروباری برادری کا بھی اہم کردار ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتخابات کے دوران کاروباری افراد مختلف سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو کروڑوں روپے کی مالی معاونت فراہم کرتے ہیں۔ اس لیے وہ صرف نظام سے باہر کھڑے ہو کر تنقید نہیں کر سکتے۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی نظام کی مالی مدد کرنے والے کاروباری افراد کو نظام کی اصلاح کے لیے بھی آواز اٹھانی چاہیے۔ انہیں سیاسی قیادت سے بہتر حکمرانی، معاشی پالیسیوں کے تسلسل اور شفاف نظام کا مطالبہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے اس کے ساتھ کاروباری طبقے کا دفاع بھی کیا اور کہا کہ دنیا بھر میں کاروباری برادری معیشت کی ترقی کا انجن ہوتی ہے۔ پاکستان میں تاجروں اور صنعت کاروں کو بلاوجہ شک کی نگاہ سے دیکھنے کے بجائے انہیں قومی ترقی اور پالیسی سازی کے عمل میں شامل کیا جانا چاہیے۔
محسن نقوی نے کہا کہ ایک کامیاب کاروباری شخص محدود وسائل کو بڑھانا، روزگار پیدا کرنا اور نئے مواقع تخلیق کرنا جانتا ہے۔ ایسی صلاحیت رکھنے والے لوگوں کو قومی فیصلہ سازی میں مثبت کردار ادا کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔
بڑھتی آبادی اور وسائل پر دباؤ
وفاقی وزیر داخلہ نے پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو بھی ایک سنگین مسئلہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سب لوگ آبادی میں اضافے کو بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں، لیکن اسے قابو کرنے کے لیے سنجیدہ عملی اقدامات نہیں کیے جاتے۔
انہوں نے کہا کہ آبادی بڑھنے سے تعلیم، صحت، روزگار، رہائش، پانی، بجلی اور بنیادی ڈھانچے پر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ان کے مطابق انتظامی یونٹس اور مقامی حکومتوں کو مضبوط کیے بغیر اتنی بڑی آبادی کے مسائل ایک محدود مرکزی یا صوبائی نظام کے ذریعے حل کرنا ممکن نہیں۔
تعلیم، صحت اور انصاف میں اصلاحات
محسن نقوی نے کہا کہ تعلیم، صحت، عدالتی نظام اور دیگر تمام شعبوں میں اصلاحات ضروری ہیں، لیکن ان کی کامیابی کے لیے سب سے پہلے مؤثر انتظامی نظام قائم کرنا ہوگا۔
ان کے مطابق اگر اختیارات اور وسائل چند بڑے شہروں یا مرکزی دفاتر تک محدود رہیں تو دور دراز علاقوں کے عوام کو معیاری سہولیات نہیں مل سکتیں۔
انہوں نے کہا کہ عدالتی معاملات، صحت کی سہولیات، تعلیمی مواقع اور سرکاری خدمات کو مقامی سطح پر منتقل کیا جائے تاکہ عام شہری کو اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے طویل سفر اور غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
عوامی دباؤ سے پہلے فیصلے کرنا ہوں گے
وزیر داخلہ نے خبردار کیا کہ حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کو عوامی دباؤ کے انتہائی حد تک بڑھنے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ضروری فیصلے وقت پر نہ کیے جائیں تو حالات ایسے مقام تک پہنچ سکتے ہیں جہاں عوام خود تبدیلی کا مطالبہ کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ ریاست اور سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بحران پیدا ہونے سے پہلے مسائل کو سمجھیں اور ان کا حل نکالیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بنیادی ضروریات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ حکومتوں کو عوام کی ناراضی بڑھنے کے بعد ردعمل دینے کے بجائے پہلے سے منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔
خطاب کا مرکزی پیغام
محسن نقوی کی تقریر کا مرکزی پیغام یہ تھا کہ پاکستان کو درپیش سیاسی، معاشی اور انتظامی مسائل کسی ایک فرد، جماعت یا حکومت کے ذریعے حل نہیں کیے جا سکتے۔
انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں، کاروباری حلقوں، اداروں، وکلا، دانشوروں، میڈیا اور نوجوانوں سے مطالبہ کیا کہ وہ قومی سطح پر اصلاحات کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ملک کے لیے ایک اہم موقع ہے اور ایسے مواقع بار بار نہیں آتے۔ اگر تمام حلقے ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر بنیادی اصلاحات پر متفق ہو جائیں تو پاکستان کو بہتر سمت میں لے جایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ سیاسی جماعتیں حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، انہیں ملک کے طویل مدتی مستقبل کے لیے ایک ساتھ بیٹھنا ہوگا۔ جب تک نظام کی بنیادیں درست نہیں کی جاتیں، قرض، مہنگائی، بے روزگاری، ناقص حکمرانی اور عوامی بے چینی جیسے مسائل بار بار سامنے آتے رہیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے