اسلام آباد: وزارت خزانہ نے ملکی معیشت سے متعلق نئی معاشی آؤٹ لک رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں مہنگائی، غیر ملکی سرمایہ کاری، برآمدات، ترسیلات زر، زرِمبادلہ کے ذخائر، ٹیکس وصولیوں اور زرعی شعبے کی صورتحال پر تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور امریکا، ایران کشیدگی کے باعث پاکستان میں مہنگائی کے دباؤ میں اضافے کا خدشہ ہے۔ وزارت خزانہ نے پیش گوئی کی ہے کہ جولائی 2026 کے دوران مہنگائی کی شرح 9 سے 10 فیصد کے درمیان رہ سکتی ہے، جبکہ جون 2026 میں مہنگائی 11.1 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو مئی کے 11.7 فیصد کے مقابلے میں قدرے کم ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط مہنگائی 7.1 فیصد رہی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے دوران براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) میں 33.9 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ سرمایہ کاری 2.477 ارب ڈالر سے کم ہو کر 1.636 ارب ڈالر رہ گئی، جبکہ جون 2026 میں صرف 13.5 ملین ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری موصول ہوئی۔ مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری مالی سال کے دوران 3.6 ارب ڈالر رہی۔
وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال 2025-26 میں ملکی برآمدات میں 4.6 فیصد کمی آئی اور ان کا حجم 30.8 ارب ڈالر رہا، تاہم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر 8.6 فیصد اضافے کے بعد 41.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جس سے بیرونی کھاتوں کو سہارا ملا۔
رپورٹ کے مطابق 17 جولائی تک پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 22.7 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جبکہ جولائی تا مئی کے دوران بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 5.8 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جو صنعتی سرگرمیوں میں بہتری کی نشاندہی کرتا ہے۔
ٹیکس وصولیوں کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی سال 2025-26 کے دوران 13.01 ٹریلین روپے ٹیکس جمع کیے، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 10.8 فیصد زیادہ ہیں۔ اسی عرصے میں جولائی تا مئی مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 1.6 فیصد تک محدود رہا۔
وزارت خزانہ نے موسمی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جولائی سے ستمبر کے دوران معمول سے کم بارشوں کا امکان ہے، جس کے باعث خریف کی فصلوں کو پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ کم بارشوں سے کپاس، چاول، گنا اور مکئی کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق عالمی معاشی حالات، توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور علاقائی کشیدگی پاکستان کی معیشت پر اثرانداز ہو سکتی ہے، تاہم حکومت معاشی استحکام برقرار رکھنے اور ترقی کی رفتار کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف پالیسی اقدامات پر عمل پیرا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے