لندن: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے بعد توانائی کی عالمی منڈی میں ایک بار پھر تیزی کا رجحان برقرار ہے۔ ماہرین کے مطابق جغرافیائی کشیدگی، رسد سے متعلق خدشات اور عالمی طلب میں اضافے کی توقعات نے تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے۔
تازہ کاروباری اعداد و شمار کے مطابق امریکی خام تیل (WTI) کی قیمت میں 3 ڈالر 21 سینٹ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد یہ 86 ڈالر 80 سینٹ فی بیرل تک پہنچ گیا۔
اسی طرح برینٹ کروڈ آئل کی قیمت بھی بڑھ کر 87 ڈالر 93 سینٹ فی بیرل ہو گئی، جو عالمی مارکیٹ میں مسلسل بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، عالمی سپلائی کے خدشات اور توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب تیل کی قیمتوں میں اضافے کی اہم وجوہات ہیں۔ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو دنیا کے کئی ممالک میں ایندھن کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اہم پیش رفت ہے، کیونکہ اس کے اثرات مقامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، مہنگائی، ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور مجموعی معاشی صورتحال پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر عالمی منڈی میں قیمتیں مسلسل بلند رہیں تو آئندہ جائزے میں مقامی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر بھی اس کے اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔
