واشنگٹن — امریکا کے مشرقی اور وسطی علاقوں میں تاریخ کی شدید ترین گرمی کی لہروں میں سے ایک جاری ہے، جس کے باعث 16 کروڑ 50 لاکھ سے زائد افراد شدید یا انتہائی شدید گرمی کے خطرے سے دوچار ہیں۔ امریکی محکمہ موسمیات اور ماہرین نے متعدد ریاستوں میں ہیٹ ایڈوائزری اور ایکسٹریم ہیٹ وارننگ جاری کر رکھی ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں درجہ حرارت 103 ڈگری فارن ہائیٹ تک پہنچ گیا، جس نے 1919 کا 100 ڈگری کا تاریخی ریکارڈ توڑ دیا۔ نیویارک کے سینٹرل پارک میں بھی درجہ حرارت 100 ڈگری فارن ہائیٹ ریکارڈ کیا گیا، جو کئی دہائیوں بعد اس سطح تک پہنچا، جبکہ فلاڈیلفیا، بالٹیمور اور دیگر شہروں میں بھی شدید گرمی برقرار ہے۔
شدید موسمی صورتحال کے باعث کئی شہروں میں یومِ آزادی کی تقریبات اور عوامی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ واشنگٹن ڈی سی اور فلاڈیلفیا میں متعدد پریڈز اور بیرونی تقریبات منسوخ یا محدود کر دی گئیں۔ نیویارک میں ہزاروں صارفین بجلی کی بندش سے متاثر ہوئے، جبکہ شدید گرمی کے باعث بعض ریلوے سروسز کی رفتار کم کر دی گئی اور کچھ ٹرینیں منسوخ بھی کی گئیں۔
صحت کے شعبے پر بھی اس ہیٹ ویو کے اثرات نمایاں ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق گرمی سے متاثر ہونے والے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ مختلف ریاستوں میں ہیٹ اسٹروک اور گرمی سے اموات کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ طبی ماہرین نے شہریوں، خصوصاً بزرگوں، بچوں اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کو غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز، پانی کا زیادہ استعمال اور ٹھنڈی جگہوں پر رہنے کی ہدایت کی ہے۔
ماہرین موسمیات کے مطابق اس شدید گرمی کی بنیادی وجہ طاقتور "ہیٹ ڈوم” ہے، جس نے گرم ہوا کو وسیع علاقے میں قید کر رکھا ہے۔ موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث اس نوعیت کی شدید اور طویل گرمی کی لہریں مستقبل میں مزید عام ہو سکتی ہیں، جس کے لیے فوری موسمیاتی اقدامات کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے