لاہور: پنجاب میں جاری مون سون بارشوں نے صوبے کے مختلف اضلاع میں تباہی مچا دی، جہاں بارش سے متعلق مختلف حادثات کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔ مسلسل موسلادھار بارش کے باعث کئی شہروں میں معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے، سڑکیں اور نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے، جبکہ شہریوں کو آمدورفت اور روزمرہ سرگرمیوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ریسکیو حکام کے مطابق جانی نقصان کے زیادہ تر واقعات بوسیدہ عمارتوں اور دیواروں کے گرنے، کرنٹ لگنے اور دیگر بارش سے متعلق حادثات کے باعث پیش آئے۔ امدادی ٹیموں نے فوری کارروائیاں کرتے ہوئے متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا اور زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی۔
بارش کے باعث متعدد شہروں میں نکاسیٔ آب کا نظام شدید دباؤ کا شکار رہا، جس کے نتیجے میں اہم شاہراہوں، رہائشی علاقوں اور بازاروں میں پانی جمع ہو گیا۔ کئی مقامات پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی، جبکہ بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی عارضی طور پر معطل رہی، جس سے شہریوں کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر متعلقہ اداروں نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے امدادی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ پانی کی نکاسی کے لیے بھاری مشینری استعمال کی جا رہی ہے، جبکہ حساس اور نشیبی علاقوں کی مسلسل نگرانی جاری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔
محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ مون سون کا موجودہ سلسلہ آئندہ چند روز تک برقرار رہ سکتا ہے، جس کے باعث مزید تیز بارشوں کا امکان ہے۔ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز، کمزور عمارتوں سے دور رہنے، بجلی کے کھلے تاروں سے احتیاط برتنے اور موسمی صورتحال سے متعلق سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر بارشوں کا یہی سلسلہ جاری رہا تو بعض علاقوں میں شہری سیلاب اور مزید جانی و مالی نقصانات کا خدشہ موجود ہے۔ متعلقہ ادارے دریاؤں، ندی نالوں اور نشیبی علاقوں کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے