کراچی — عوام پاکستان پارٹی کے سیکریٹری جنرل اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے انکشاف کیا ہے کہ پیٹرول کی اصل لاگت کراچی بندرگاہ پر پہنچنے تک درآمدی ڈیوٹی سمیت صرف 220 روپے فی لیٹر بنتی ہے اور اس سے اوپر کی تمام رقم حکومتی ٹیکسوں اور تیل کمپنیوں کے منافع پر مشتمل ہے۔
ARY نیوز کے پروگرام سوال یہ ہے میں گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ حکومت تیل مارکیٹنگ کمپنیوں کے منافع پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتی اور جب بھی موٹر سائیکل سواروں کو 10 روپے فی لیٹر ریلیف دینے کی بات ہوتی ہے تو IMF سے کیے گئے وعدوں کا حوالہ دے کر معاملہ ٹھنڈا کر دیا جاتا ہے۔
اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟
ابھی پاکستان میں 25 جولائی 2026 کے نرخ کے مطابق پیٹرول کی قیمت 335 روپے 18 پیسے فی لیٹر ہے۔ اس میں پیٹرولیم لیوی 70 روپے 36 پیسے، پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی 8 روپے 64 پیسے، کلائمیٹ سپورٹ لیوی 5 روپے، کسٹم ڈیوٹی اور فریٹ 19 روپے 33 پیسے، تیل کمپنیوں کا مارجن 6 روپے 86 پیسے اور ڈیلر مارجن 7 روپے 87 پیسے شامل ہے۔ یعنی مجموعی طور پر صارف 94 روپے 69 پیسے صرف ٹیکسوں اور مارجن کی مد میں ادا کرتا ہے جو کہ پمپ قیمت کا تقریباً 32 فیصد بنتا ہے۔
پیٹرول 26 اور 27 جولائی کو
وزارت پیٹرولیم نے اعلان کیا ہے کہ 26 اور 27 جولائی کو پیٹرول کی قیمتیں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی اور موجودہ نرخ برقرار رہیں گے۔
