اسلام آباد: پاکستان کی اعلیٰ عسکری قیادت میں اہم تبدیلیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ حکومت نے لیفٹیننٹ جنرل سید عامر رضا کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر نئی قائم کی گئی نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کا پہلا کمانڈر مقرر کر دیا ہے۔ اس تقرری کے ساتھ ہی فوج کے اعلیٰ کمانڈ ڈھانچے میں مزید اہم تبادلوں اور تقرریوں کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
جنرل سید عامر رضا اس سے قبل چیف آف جنرل اسٹاف (CGS) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے، جو پاک فوج کے اہم ترین آپریشنل مناصب میں شمار ہوتا ہے۔ ان کی نئی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد چیف آف جنرل اسٹاف کا عہدہ خالی ہو گیا ہے، جس پر جلد نئی تعیناتی متوقع ہے۔
دفاعی حلقوں کے مطابق چیف آف جنرل اسٹاف کی تقرری کے بعد جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) میں دیگر اہم عہدوں پر بھی ردوبدل کا امکان ہے۔ اگر کسی موجودہ کور کمانڈر کو چیف آف جنرل اسٹاف مقرر کیا جاتا ہے تو متعلقہ کور کے لیے نئے کمانڈر کا تقرر بھی کرنا ہوگا، جس کے نتیجے میں اعلیٰ فوجی قیادت میں ایک سلسلہ وار تبدیلیاں سامنے آ سکتی ہیں۔
حالیہ تبدیلیاں پاکستان کے دفاعی نظام میں کی گئی نئی تنظیمِ نو کا حصہ سمجھی جا رہی ہیں۔ اس نئے ڈھانچے کے تحت نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کو اہم دفاعی اور اسٹریٹجک امور میں مرکزی کردار دیا گیا ہے، جبکہ اس کی سربراہی پہلی مرتبہ ایک فور اسٹار جنرل کے سپرد کی گئی ہے۔
عسکری مبصرین کے مطابق آئندہ چند روز یا ہفتوں میں مزید اہم تقرریوں کا اعلان متوقع ہے، جن میں چیف آف جنرل اسٹاف، جنرل ہیڈکوارٹرز کے مختلف پرنسپل اسٹاف افسران اور بعض کور کمانڈرز کے عہدوں پر تبدیلیاں شامل ہو سکتی ہیں۔ تاہم ان ممکنہ تقرریوں کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ سرکاری اعلان جاری نہیں کیا گیا۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کا مقصد پاکستان کی اعلیٰ عسکری قیادت کے کمانڈ سسٹم کو مزید مؤثر بنانا اور بدلتی ہوئی علاقائی و عالمی سیکیورٹی صورتحال کے مطابق دفاعی حکمت عملی کو مضبوط کرنا ہے۔ اسی وجہ سے حالیہ تقرری کو صرف ایک عہدے کی تبدیلی نہیں بلکہ پاک فوج کے اعلیٰ کمانڈ ڈھانچے میں ایک اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ آئندہ چند دنوں میں مزید اہم فیصلوں پر بھی سب کی نظریں مرکوز ہیں۔
