اسلام آباد: کبھی وزیراعظم ہاؤس سے پاکستان کے اہم ترین فیصلے کرنے والے عمران خان آج راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنی مسلسل قید کے 1088 دن مکمل کر چکے ہیں۔ اقتدار کی بلند ترین کرسی سے جیل کی تنہائی تک پہنچنے والا یہ سفر پاکستان کی حالیہ سیاسی تاریخ کی سب سے غیر معمولی اور متنازع داستانوں میں شمار ہوتا ہے۔
عمران خان نے 18 اگست 2018 کو پاکستان کے 22ویں وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا۔ ان کی حکومت نے احتساب، فلاحی منصوبوں، خارجہ پالیسی اور معیشت کے میدان میں مختلف اقدامات کیے، تاہم ان کے دورِ حکومت میں سیاسی کشیدگی، مہنگائی، معاشی دباؤ اور اتحادی جماعتوں کے اختلافات بھی مسلسل بڑھتے رہے۔
مارچ 2022 میں حزبِ اختلاف نے عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریکِ عدم اعتماد جمع کرائی۔ تین اپریل کو ڈپٹی سپیکر نے تحریک مسترد کر دی، جس کے بعد قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا اعلان کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے اس اقدام کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسمبلی بحال کی اور عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کا حکم دیا۔
نو اپریل کی رات شروع ہونے والا قومی اسمبلی کا اجلاس دس اپریل 2022 کی ابتدائی ساعتوں تک جاری رہا۔ تحریکِ عدم اعتماد کے حق میں 174 ووٹ پڑنے کے بعد عمران خان وزارتِ عظمیٰ سے ہٹ گئے۔ وہ پاکستان کی تاریخ کے پہلے وزیراعظم بنے جنہیں پارلیمان میں تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے عہدے سے ہٹایا گیا۔
حکومت ختم ہونے کے بعد عمران خان نے ملک بھر میں جلسوں، ریلیوں اور عوامی رابطہ مہم کا آغاز کیا۔ ان کے جلسوں میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت نے انہیں اقتدار سے باہر ہونے کے باوجود پاکستانی سیاست کا مرکزی کردار بنائے رکھا۔ انہوں نے اپنی حکومت کے خاتمے کو ایک منظم سیاسی منصوبے کا نتیجہ قرار دیا اور اس کے پیچھے طاقتور حلقوں کی مداخلت کا الزام عائد کیا۔
عمران خان کو نو مئی 2023 کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے القادر ٹرسٹ مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا، تاہم بعد میں عدالت نے گرفتاری کے طریقۂ کار کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ ان کی موجودہ اور مسلسل قید کا آغاز پانچ اگست 2023 کو ہوا، جب توشہ خانہ مقدمے میں سزا سنائے جانے کے بعد انہیں لاہور سے گرفتار کیا گیا۔
گرفتاری کے بعد عمران خان کو پہلے اٹک جیل منتقل کیا گیا، جبکہ بعد میں عدالتی حکم پر انہیں اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ توشہ خانہ مقدمے میں سزا معطل ہونے کے باوجود انہیں رہائی نہ مل سکی، کیونکہ اس کے بعد انہیں سائفر، القادر ٹرسٹ، نو مئی کے واقعات اور دیگر مقدمات میں گرفتار رکھا گیا۔
گزشتہ تقریباً تین برس کے دوران عمران خان کو مختلف مقدمات میں سزائیں سنائی گئیں، جن میں سے بعض فیصلے اعلیٰ عدالتوں نے معطل یا کالعدم قرار دیے۔ متعدد مقدمات میں قانونی ریلیف ملنے کے باوجود دوسرے مقدمات اور سزاؤں کے باعث ان کی رہائی ممکن نہ ہو سکی۔
عمران خان اس وقت بھی اڈیالہ جیل میں سخت تنہائی اور بیرونی دنیا سے انتہائی محدود رابطے کے ساتھ قید ہیں۔ عدالتی احکامات میں وکلا اور اہلِ خانہ سے ملاقاتوں کی اجازت موجود ہونے کے باوجود کئی ماہ سے ان کی معمول کی ملاقاتیں مسلسل روکی جا رہی ہیں۔ ان کے وکلا، بہنوں، سیاسی ساتھیوں اور خاندان کے دیگر افراد کو متعدد مرتبہ جیل کے باہر سے واپس بھیجا گیا، جبکہ طویل عرصے کے دوران صرف چند انتہائی محدود اور نگرانی میں ہونے والی ملاقاتیں ممکن ہو سکیں۔
اس صورتحال کے نتیجے میں عمران خان کا اپنے قانونی مشیروں، جماعت، خاندان اور بیرونی دنیا سے رابطہ تقریباً منقطع ہو چکا ہے۔ ان کی صحت، مقدمات اور ذاتی حالات سے متعلق معلومات بھی زیادہ تر انہی محدود ملاقاتوں یا عدالتی کارروائی کے ذریعے سامنے آتی ہیں۔ ان کے ذاتی معالج کو بھی طویل عرصے تک آزادانہ طبی معائنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
عمران خان کی ملاقاتوں پر پابندی ایسے وقت میں مزید سخت ہوئی جب انہوں نے جیل سے جاری اپنے پیغامات میں آرمی چیف اور ملک کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ پر شدید تنقید کی۔ فوجی قیادت کی جانب سے جواباً یہ مؤقف سامنے آیا کہ عمران خان ملاقاتوں اور اپنے سیاسی پیغامات کو فوجی قیادت کے خلاف مہم اور عوامی اشتعال پیدا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
غیر جانب دار سیاسی مبصرین کے مطابق عمران خان کی طویل قید، ملاقاتوں کی بندش، عدالتی احکامات پر عمل نہ ہونا اور ان کی جماعت کے خلاف مسلسل کارروائیاں محض جیل انتظامیہ کے فیصلے دکھائی نہیں دیتیں۔ ان کے نزدیک ان تمام اقدامات کے پیچھے ملک کے طاقتور ریاستی اور سیاسی حلقوں کا اثر واضح طور پر محسوس ہوتا ہے، اگرچہ متعلقہ ادارے سیاسی عمل میں براہِ راست مداخلت کے الزامات کو مسترد کرتے آئے ہیں۔
اڈیالہ جیل میں قید ہونے کے باوجود عمران خان پاکستانی سیاست کے سب سے مؤثر اور مقبول رہنماؤں میں شامل ہیں۔ آٹھ فروری 2024 کے عام انتخابات میں پاکستان تحریکِ انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں کی بڑی تعداد میں کامیابی نے ثابت کیا کہ ان کی گرفتاری کے باوجود ان کا سیاسی اثر ختم نہیں ہوا۔
تحریکِ انصاف عمران خان کی رہائی کے لیے عدالتی، سیاسی اور احتجاجی محاذوں پر جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے حامی انہیں سیاسی قیدی قرار دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ مقدمات کا مقصد انہیں سیاست سے باہر رکھنا ہے۔
پانچ اگست 2023 سے 28 جولائی 2026 تک عمران خان کی مسلسل قید کو 1088 دن مکمل ہو چکے ہیں۔ تقریباً چار سال قبل وزارتِ عظمیٰ سے ہٹائے جانے والے عمران خان آج بھی اڈیالہ جیل کی ایک محدود دنیا میں قید ہیں، جہاں ان کی معمول کی خاندانی اور قانونی ملاقاتیں بند، سیاسی رابطہ منقطع اور آزادی کا مستقبل عدالتی و سیاسی فیصلوں سے وابستہ ہے۔
اقتدار کے ایوانوں سے اڈیالہ جیل کی سلاخوں تک عمران خان کا یہ 1088 دنوں پر محیط سفر صرف ایک شخص کی قید کی داستان نہیں، بلکہ پاکستان میں سیاست، ریاستی طاقت، عدلیہ اور عوامی رائے کے درمیان جاری ایک بڑے تصادم کی تصویر بھی بن چکا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے