اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے آزاد کشمیر میں جاری احتجاج کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، میں ان لوگوں کو ہندوستان کی صف میں دیکھتا ہوں، یہ لوگ پاکستان دشمن ہیں۔”
خواجہ آصف نے اپنے بیان میں کہا کہ ریاست کے خلاف سرگرم عناصر کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ پاکستان کے قومی مفادات کے خلاف مؤقف اختیار کرتے ہیں یا دشمن کے بیانیے سے ہم آہنگ نظر آتے ہیں، ان کے ساتھ مفاہمت کی کوئی گنجائش نہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ ریاست کی سلامتی، خودمختاری اور قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کے خلاف سرگرمیوں یا بیانیے کی حمایت کرنے والوں کے ساتھ قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔
آزاد کشمیر میں گزشتہ چند ہفتوں سے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، جہاں مختلف سیاسی اور عوامی مطالبات کے حق میں ریلیاں اور احتجاج کیے جا رہے ہیں۔ اسی تناظر میں خواجہ آصف کا یہ بیان سامنے آیا ہے، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
وزیر دفاع کے بیان کو حکومت کے سخت مؤقف کی عکاسی قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اس پر مختلف سیاسی جماعتوں اور عوامی حلقوں کی جانب سے مختلف ردِعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے