مظفرگڑھ: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد اس کے اثرات اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ مظفرگڑھ میں آٹے کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں 15 کلو آٹے کا تھیلا 2100 روپے تک فروخت ہونے لگا ہے۔
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ آٹے کی قیمت میں اچانک اضافے نے ان کے گھریلو بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق پہلے ہی مہنگائی نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر رکھا تھا، جبکہ اب بنیادی غذائی ضرورت سمجھے جانے والے آٹے کی قیمت میں اضافے نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کی پریشانی مزید بڑھا دی ہے۔
شہریوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ناجائز منافع خوری اور مصنوعی مہنگائی کے خلاف فوری کارروائی کی جائے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر قیمتوں کو قابو میں نہ لایا گیا تو روزمرہ زندگی کے اخراجات پورے کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث نقل و حمل کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں، جس کے اثرات آٹے سمیت دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔
عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عام شہریوں کو مزید مالی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے