اسلام آباد: آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے کے نتائج کے بعد وفاق میں اتحادی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان سیاسی تناؤ کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ انتخابی نتائج، مبینہ دھاندلی، عوامی مینڈیٹ اور حکومتی کارکردگی کے معاملے پر دونوں جماعتوں کی اعلیٰ قیادت اور اہم رہنما ایک دوسرے پر سخت تنقید کر رہے ہیں۔

مریم نواز نے پیپلز پارٹی کو کیا کہا؟

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پیپلز پارٹی کے دھاندلی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی نتائج کا فیصلہ عوام کرتے ہیں۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کو مشورہ دیا کہ وہ شکست کو کھلے دل سے تسلیم کرے، اپنی کارکردگی کا جائزہ لے اور عوام کے سامنے بہتر پروگرام پیش کرے۔

مریم نواز نے سندھ میں پیپلز پارٹی کی طویل حکمرانی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا مؤقف تھا کہ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے عوام کے سامنے سندھ کی کوئی نمایاں کارکردگی یا واضح ترقیاتی منصوبہ پیش نہیں کر سکی۔

بعد ازاں انہوں نے سوشل میڈیا پر طنزیہ انداز میں لکھا کہ پیپلز پارٹی، جو ان کے بقول دھاندلی کی باریک وارداتوں کی ماہر ہے، اب خود دھاندلی کا رونا رو رہی ہے۔ ان کا یہ بیان سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا پر شدید بحث کا باعث بن گیا۔

بلاول بھٹو کا مریم نواز اور مسلم لیگ (ن) کو جواب

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جواب میں مسلم لیگ (ن) پر انتخابی دھاندلی سے فائدہ اٹھانے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی انتخابی شکست قبول کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن مبینہ دھاندلی کے ذریعے عوامی مینڈیٹ چھیننے والے نتائج تسلیم نہیں کیے جائیں گے۔

بلاول بھٹو نے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کو فارم 47 کی پیداوار قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں عہدے عوامی ووٹ اور حقیقی مینڈیٹ کے بجائے متنازع انتخابی نتائج کے نتیجے میں حاصل کیے گئے۔

انہوں نے آزاد کشمیر میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات اور بعض حلقوں میں دوبارہ پولنگ کا مطالبہ بھی کیا۔ بلاول بھٹو کے مطابق ان کی جماعت کے پاس انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں کے شواہد موجود ہیں۔

بلاول بھٹو نے یہ بھی کہا کہ ریاست کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس کے لیے قومی مفاد زیادہ اہم ہے یا مسلم لیگ (ن) کا سیاسی مفاد۔ ان کے مطابق ایک جماعت کو فائدہ پہنچانے کے لیے کیے گئے فیصلوں کا نقصان پورے ملک اور آزاد کشمیر کے عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔

شرجیل میمن کا مریم نواز پر جوابی حملہ

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے مریم نواز کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ مریم نواز نہیں بلکہ فارم 47 بول رہا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ 2024 کے عام انتخابات میں عوامی مینڈیٹ کو نظر انداز کیا گیا اور اقتدار مبینہ طور پر غیر حقیقی نتائج کی بنیاد پر تقسیم کیا گیا۔ شرجیل میمن نے مریم نواز کو جعلی مینڈیٹ کے ذریعے وزیراعلیٰ بننے کا طعنہ بھی دیا۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور قیادت نے ملک اور جمہوریت کے لیے قربانیاں دی ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت مشکل حالات میں معاہدے کر کے ملک سے باہر جاتی رہی ہے۔

احسن اقبال کی بلاول بھٹو پر تنقید

وفاقی وزیر احسن اقبال نے بلاول بھٹو کے بیانات کو غیر جمہوری اور ناپختہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولنگ ختم ہونے تک پیپلز پارٹی کی جانب سے دھاندلی کی کوئی بڑی شکایت سامنے نہیں آئی، تاہم نتائج مسلم لیگ (ن) کے حق میں آنے کے بعد الزامات کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔

احسن اقبال نے بلاول بھٹو کو مشورہ دیا کہ وہ مسلم لیگ (ن) کو کامیابی پر مبارک باد دیں اور انتخابی شکست کو جمہوری انداز میں قبول کریں۔

انہوں نے سندھ اور پنجاب کی حکومتی کارکردگی کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے فیصلہ کرنا تھا کہ وہ کراچی جیسی صورتحال چاہتے ہیں یا لاہور جیسی ترقی۔

حسن مرتضیٰ کے سنگین الزامات

پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے جنرل سیکریٹری حسن مرتضیٰ نے الزام عائد کیا کہ میرپور کے مختلف حلقوں میں بعض پولنگ اسٹیشنوں کو مبینہ طور پر یرغمال بنایا گیا، پیپلز پارٹی کے پولنگ ایجنٹس کو باہر نکالا گیا اور ووٹنگ کا وقت بڑھا کر مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کو فائدہ پہنچایا گیا۔

انہوں نے آزاد کشمیر الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری پر بھی سوالات اٹھائے اور دعویٰ کیا کہ بعض پولنگ اسٹیشنوں پر غیر معمولی طور پر بہت زیادہ ٹرن آؤٹ ظاہر کیا گیا۔

یہ تمام الزامات پیپلز پارٹی کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں اور ان کی حتمی حقیقت متعلقہ انتخابی یا عدالتی تحقیقات کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔

نواز شریف کا بلاول بھٹو پر طنز

انتخابی مہم کے دوران مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے بھی بلاول بھٹو پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کشمیر ہے، کشمور نہیں اور یہ میرپور ہے، میرپورخاص نہیں۔

نواز شریف نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلاف اور سیاسی نوک جھونک جمہوریت کا حصہ ہے، لیکن سیاست کو تشدد اور انتشار میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔

کیا وفاقی اتحاد خطرے میں ہے؟

دونوں جماعتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی لفظی جنگ نے وفاقی اتحادی حکومت کے مستقبل سے متعلق سوالات ضرور پیدا کر دیے ہیں۔ تاہم اب تک پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ (ن) نے اتحاد ختم کرنے یا وفاقی حکومت سے علیحدگی کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا۔

موجودہ کشیدگی کا تعلق بنیادی طور پر آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج، مبینہ دھاندلی کے الزامات اور آئندہ سیاسی برتری کی کوششوں سے دکھائی دیتا ہے۔

اگر فارم 47، دھاندلی، جعلی مینڈیٹ اور ذاتی حملوں پر مبنی بیانات کا سلسلہ اسی شدت سے جاری رہا تو اس کے اثرات وفاقی حکومت، پارلیمانی تعاون اور دونوں جماعتوں کے مستقبل کے سیاسی تعلقات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے