کراچی — 30 جولائی 2026
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں جمعرات کو بھی مندی کا سلسلہ جاری رہا اور بینچ مارک KSE-100 انڈیکس مسلسل تیسرے کاروباری دن سرخ نشان میں بند ہوتا نظر آ رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید متاثر کیا ہے۔
اہم اعداد و شمار
تفصیل
قدر
گزشتہ روز کا اختتامی نمبر (بدھ)
176,042.98 پوائنٹس
آج صبح 11:35 بجے کی سطح
174,993.83 پوائنٹس
کمی (صبح 11:35 بجے تک)
1,049.15 پوائنٹس (0.60%)
دن کی کم ترین سطح (اب تک)
174,612.14 پوائنٹس
دن کی بلند ترین سطح (اب تک)
176,234.28 پوائنٹس
کاروبار کا احوال
مارکیٹ نے آج ملے جلے انداز میں کاروبار کا آغاز کیا۔ ابتدائی سیشن میں انڈیکس مختصر وقت کے لیے مثبت زون میں بھی گیا، جہاں یہ گزشتہ بند سے تقریباً 191 پوائنٹس بلند سطح (176,234.28) تک پہنچا۔ تاہم یہ تیزی برقرار نہ رہ سکی اور فروخت کے دباؤ نے جلد ہی مارکیٹ کو نیچے دھکیل دیا۔
دن کی کم ترین سطح تک انڈیکس گزشتہ بند کے مقابلے میں تقریباً 1,430 پوائنٹس تک گر چکا ہے۔ آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، فرٹیلائزر، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (OMCs)، اور پاور جنریشن سیکٹرز میں سب سے زیادہ فروخت دیکھی گئی۔ انڈیکس ہیوی اسٹاکس — ARL، PRL، HUBCO، OGDC، POL، PPL، PSO، MCB، NBP اور UBL — سرخ نشان میں ٹریڈ کرتے رہے۔
مسلسل تیسرے دن کی مندی
یہ مندی کا سلسلہ کوئی نئی بات نہیں — گزشتہ دو کاروباری دنوں میں بھی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار رہی:
منگل: KSE-100 میں 1,339.73 پوائنٹس (0.75%) کی کمی
بدھ: KSE-100 میں 1,580.90 پوائنٹس (0.89%) کی کمی، انڈیکس 176,042.98 پر بند
جمعرات (آج): صبح گیارہ بجے تک 1,049.15 پوائنٹس کی کمی، دن کی کم ترین سطح پر مجموعی کمی تقریباً 1,430 پوائنٹس
وجوہات
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں دوبارہ اضافہ — عراق میں تازہ حملوں اور مصر کے ڈیمیٹا گیس پورٹ پر دھماکے نے عالمی توانائی منڈیوں میں خدشات بڑھا دیے۔
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ، جس سے پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ملک کی معیشت پر براہِ راست دباؤ پڑتا ہے۔
عالمی مارکیٹس میں بھی مندی — امریکی S&P 500 میں 1.52% کی کمی اور چِپ ساز کمپنیوں کے حصص میں فروخت نے سرمایہ کاروں کے مجموعی جذبات کو متاثر کیا۔
مجموعی صورتحال
اتار چڑھاؤ کے باوجود KSE-100 اب بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 27% بلند سطح پر ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ طویل مدتی رجحان اب بھی مثبت ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ ہفتوں میں غیر یقینی صورتحال بڑھی ہے، تاہم بنیادی معاشی اشاریے اب بھی مستحکم ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے