مظفرآباد: آزاد کشمیر میں سیاسی کشیدگی پیر کے روز مزید شدت اختیار کر گئی، جہاں راولاکوٹ میں مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ یہ صورتحال جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے لانگ مارچ اور حکومت کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد پیدا ہوئی۔

عینی شاہدین کے مطابق ہزاروں مظاہرین راولاکوٹ سے مظفرآباد کی جانب مارچ کر رہے تھے، اس دوران راولاکوٹ میں تصادم ہوا۔ مختلف مقامات پر سڑکیں بند رہیں جبکہ سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے متعدد کارکن جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم حکومتی اداروں نے ان دعوؤں کی مکمل تصدیق نہیں کی اور ہلاکتوں کی حتمی تعداد کے حوالے سے باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں کشیدگی کے باعث معمولاتِ زندگی بھی متاثر ہوئے ہیں، جبکہ بعض مقامات پر انتخابی سرگرمیوں پر بھی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال آزاد کشمیر میں حالیہ برسوں کے سب سے سنگین سیاسی بحرانوں میں شمار کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب حکام کی جانب سے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے، جبکہ تمام نظریں آئندہ سرکاری بیان اور ممکنہ مذاکرات پر مرکوز ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے