لاہور — پاکستان کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں ایک انتہائی چونکا دینے والا اور شرمناک واقعہ سامنے آیا ہے جس میں دو غیر ملکی خواتین کو اغوا کر کے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور ڈیڑھ ملین ڈالر تاوان مانگا گیا۔ اس کیس میں ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کا قریبی رشتہ دار محمد رضا ڈار بھی ملوث ہے۔
واقعے کا آغاز
ڈچ خاتون اسٹیفنی ایڈریانا اور وینزویلن خاتون آسٹرڈ گیبریل اکتوبر 2025 میں سنگاپور میں ایک کریپٹو کرنسی کانفرنس میں رضا ڈار سے ملی تھیں۔ رضا ڈار نے خود کو ایک سینیئر حکومتی وزیر کا بیٹا بتایا اور سابق وزیراعظم کے ساتھ اپنی تصاویر دکھا کر اعتماد حاصل کیا۔ کاروباری شراکت کی پیشکش پر دونوں خواتین 29 جون 2026 کو لاہور پہنچیں۔
اغوا اور تشدد
لاہور آمد کے ابتدائی تین دن رضا ڈار نے انہیں شاپنگ، ڈنر اور سیاحتی مقامات کی سیر کرائی لیکن اس کے بعد دونوں خواتین کو ڈیفنس لاہور کے وائی بلاک میں ایک مکان میں بندوق کی نوک پر قید کر لیا گیا۔ انہیں جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، بار بار جنسی زیادتی کی گئی اور ان کے اہل خانہ کو وڈیو کالز کرا کے ڈیڑھ ملین ڈالر تاوان مانگا گیا۔ اس دوران ایک ملزم نے متاثرہ خاتون کے کریپٹو والیٹ سے 70 ہزار ڈالر بھی منتقل کر لیے۔
فرانس سے الرٹ، پاکستان میں ریسکیو
متاثرہ خاتون کے والد نے فرانس سے پاکستانی ہنگامی ہیلپ لائن پر رابطہ کیا جس کے بعد لاہور پولیس نے CCTV فوٹیج اور گاڑی کے رجسٹریشن ڈیٹا کی مدد سے دونوں خواتین کو ڈھونڈ نکالا۔ پولیس نے شاہدرہ، سرگودھا، اسلام آباد اور واپس لاہور تک گاڑی کے راستے کو ٹریک کرتے ہوئے چھاپہ مارا اور دونوں خواتین کو بازیاب کروا لیا۔
سیاسی اثر رسوخ؟
متاثرہ خاتون نے مجسٹریٹ کے سامنے بیان میں الزام لگایا کہ ابتدائی پولیس ٹیم نے انہیں ایئرپورٹ بھیجنے کی کوشش کی اور پھر گاڑی روک لی جس پر دونوں خواتین خوف میں بھاگ گئیں۔ بعد میں آنے والی پولیس ٹیم جس میں خواتین افسر شامل تھیں اس نے انہیں محفوظ کیا۔ تاہم لاہور پولیس کے ڈی آئی جی فیصل کمران نے واضح کیا کہ کیس میں کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہوئی اور وزیراعلیٰ پنجاب نے سخت کارروائی کا حکم دیا ہے۔
تازہ ترین صورتحال
اب تک 8 ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں جن میں رضا ڈار کا مبینہ "باس” بھی شامل ہے جو گرفتاری سے بچنے کے لیے چھت سے کود گیا اور اس کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں۔ تاہم سینیئر صحافی نجم سیٹھی نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں متاثرہ خواتین کو پاکستان سے باہر بھیج دیا گیا ہے جس سے کیس کے آگے بڑھنے پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے