19 جون 2026 کی بات ہے۔ ہندوستان کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ملک کے بے روزگار نوجوانوں کو عدالت میں بیٹھ کر "کاکروچ” اور "پرجیوی” کہا۔ ان کا مقصد شاید یہ تھا کہ احتجاج کرنے والے طلبا کو شرمندہ کیا جائے، انہیں چپ کرایا جائے، انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ وہ کچھ نہیں۔ لیکن ہوا اس کے برعکس۔
مہاراشٹر کے ایک نوجوان ابھیجیت دیپکے نے اسی رات سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کی۔ اس نے لکھا کہ ٹھیک ہے اگر ہم کاکروچ ہیں تو پھر ہم کاکروچ جنتا پارٹی بناتے ہیں۔ یہ پوسٹ رات بھر میں وائرل ہو گئی۔ صبح تک لاکھوں نوجوان اس گالی کو اپنا تمغہ بنا چکے تھے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ایک گالی تحریک بن گئی اور ایک طالب علم کی ایک پوسٹ نے پورے ہندوستان کو ہلا کر رکھ دیا۔ 36 دن بعد ہندوستان کے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا پڑا۔ نہ فوج آئی، نہ میڈیا بند کیا گیا، نہ لیڈروں کو جیل بھیجا گیا — بس عوام نکلے اور حکومت نے سنی۔ یہ جمہوریت ہے۔
یہ تحریک اچانک نہیں اٹھی تھی۔ اس کی جڑ NEET اسکینڈل میں تھی جو ہندوستان کا سب سے بڑا میڈیکل داخلہ امتحان ہے۔ ہر سال 20 لاکھ سے زیادہ طلبا اس امتحان کی تیاری میں سالوں لگاتے ہیں، راتوں کو جاگتے ہیں، خاندانوں کی تمام امیدیں ان پر ہوتی ہیں۔ 2024 میں پہلی بار الزام لگا کہ NEET کا پرچہ لیک ہوا اور امیر گھرانوں کے بچوں کو پیسے دے کر پرچہ فروخت کیا گیا۔ حکومت نے ابتدا میں انکار کیا، پھر جانچ کا وعدہ کیا، پھر معاملہ دبا دیا۔ لیکن 2026 میں جب یہی اسکینڈل دوبارہ سامنے آیا اور ثبوت عوام کے سامنے آئے تو نوجوانوں کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ سوچیں ذرا کہ ایک طالب علم جو پانچ سال رات دن پڑھتا ہے، جس کے والدین کوچنگ سینٹر کے لیے قرض لیتے ہیں، جو ایک ایک نمبر کے لیے لڑتا ہے — اسے جب پتہ چلے کہ امیر باپ کے بیٹے نے پیسے دے کر پرچہ خریدا اور اس کی نشست چھین لی — تو اس کا درد کتنا گہرا ہوگا؟ یہی درد تحریک بنا۔
کاکروچ جنتا پارٹی کوئی روایتی سیاسی جماعت نہیں تھی۔ نہ اس کا کوئی دفتر تھا، نہ فنڈ، نہ کوئی بڑا لیڈر۔ یہ صرف ایک خیال تھا جو سوشل میڈیا پر پھیلا اور لاکھوں نوجوانوں نے اسے اپنا لیا۔ ابھیجیت دیپکے نے انسٹاگرام، ایکس اور یوٹیوب پر اپیل کی کہ سب نئی دہلی کے جنتر منتر پر جمع ہوں۔ پہلے دن چند سو لوگ آئے، دوسرے دن چند ہزار، ایک ہفتے میں لاکھوں۔ پھر یہ تحریک دہلی سے نکلی اور ممبئی، کولکتہ، چنئی، پونے، بنگلور، حیدرآباد — ہندوستان کے درجنوں شہروں کی سڑکیں بھر گئیں۔ CJP نے چند واضح مطالبات رکھے — وزیر تعلیم کا فوری استعفیٰ، NEET اسکینڈل کی آزادانہ تحقیقات، پورے امتحانی نظام کی اصلاح اور ذمہ داران کو سزا۔ یہ مطالبات سادہ تھے، واضح تھے اور سمجھ میں آنے والے تھے — اسی لیے ہر طبقے نے انہیں سپورٹ کیا۔
تحریک نے سوشل میڈیا کو ہتھیار بنایا۔ ہر روز نئی ویڈیوز وائرل ہوتیں، لائیو سٹریمز چلتیں، مختلف شہروں کے احتجاج کی تصاویر شیئر ہوتیں۔ نوجوانوں نے خود کو کاکروچ کہلوانا شروع کیا — یہ ایک نفسیاتی جیت تھی کیونکہ جو گالی انہیں شرمندہ کرنے کے لیے دی گئی تھی اسے انہوں نے اپنی طاقت بنا لیا۔ CJP نے ایک انتہائی ہوشیارانہ فیصلہ یہ کیا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو اپنے ساتھ نہیں آنے دیا۔ جب کانگریس کے لیڈر جنتر منتر پر آئے تو انہیں واپس کر دیا گیا۔ جب عام آدمی پارٹی نے حمایت کا اعلان کیا تو CJP نے کہا کہ ہمیں کسی پارٹی کی حمایت نہیں چاہیے۔ اس فیصلے نے تحریک کی غیر جانبداری برقرار رکھی اور حکومت کا یہ الزام کمزور کر دیا کہ یہ سیاسی مخالفین کی چال ہے۔
حکومت نے پہلے نظرانداز کیا، پھر میڈیا نے کہا کہ یہ اپوزیشن کی سازش ہے، بی جے پی کے ترجماؤں نے کہا کہ یہ ملک دشمن عناصر کی کارستانی ہے۔ یہ وہی پرانا حربہ تھا جو ہر حکومت اپنے خلاف احتجاج کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ پھر حکومت نے طاقت استعمال کی۔ پولیس نے احتجاجی مقام پر آنسو گیس چھوڑی۔ ایک معزز ماہر تعلیم سونم وانگچک جو طلبا کے ساتھ یکجہتی میں 26 دن سے بھوک ہڑتال پر تھے انہیں زبردستی ہسپتال لے جایا گیا۔ انٹرنیٹ بند کر دیا گیا۔ لیکن تحریک نہیں رکی — بلکہ اور پھیل گئی۔ جب حکومت نے وانگچک کو اٹھایا تو اگلے دن احتجاج مزید بڑا ہو گیا۔
25 جولائی 2026 کی شام وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے ایکس پر دو صفحے کا خط لکھا اور وزیراعظم نریندر مودی کو اپنا استعفیٰ بھیج دیا۔ جنتر منتر پر جب یہ خبر پہنچی تو ابھیجیت دیپکے نے مائیک پر چیخ کر کہا کہ ہم نے کر دکھایا، ہم نے کر دکھایا۔ ہزاروں نوجوان رو رہے تھے، ایک دوسرے کو گلے لگا رہے تھے۔ 19 سالہ لاونیا بھارتی نے صحافیوں سے کہا کہ انہوں نے ہمیں سست اور بے روزگار کہا تھا — آج ہم نے انہیں جواب دے دیا اور ہم نے وہ ڈر ختم کیا جو مودی نے سالوں میں بنایا تھا۔
اب ذرا پاکستان کی طرف آئیں۔ پاکستان میں بھی امتحانی پرچے لیک ہوتے ہیں۔ نوجوان بے روزگار ہیں۔ یونیورسٹیوں کی حالت ابتر ہے۔ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ پیٹرول کی قیمت 335 روپے سے اوپر ہے جبکہ اصل لاگت صرف 220 روپے ہے — باقی سب ٹیکس اور کمپنیوں کا منافع ہے۔ لیکن جب بھی کوئی آواز اٹھتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟ عمران خان — پاکستان کی تاریخ کا مقبول ترین سیاستدان — آج اڈیالہ جیل میں بند ہے۔ 9 مئی کے بعد 35 ہزار سے زیادہ کارکنوں کو نامزد کیا گیا، ہزاروں کو گرفتار کیا گیا، کئی کو فوجی عدالتوں میں پیش کیا گیا۔ آزاد کشمیر میں JAAC نے بجلی اور آٹے کی مہنگائی پر احتجاج کیا تو اسے کالعدم قرار دے دیا گیا، ایک کارکن ہلاک ہوا اور لیڈروں پر دہشت گردی کے مقدمے ڈال دیے گئے۔ بلوچستان میں لاپتہ افراد کی مائیں سالوں سے سڑکوں پر ہیں — کوئی نہیں سنتا۔
یہ جمہوریت نہیں — یہ مارشل لا کا نیا چہرہ ہے جسے آج کل ہائبرڈ نظام کہتے ہیں۔ اس نظام میں انتخابات بھی ہوتے ہیں، پارلیمنٹ بھی بیٹھتی ہے، وزیراعظم بھی ہوتا ہے — لیکن اصل طاقت کسی اور کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ جہاں عوام ووٹ تو دیتے ہیں لیکن حکومت وہ بناتے ہیں جو راولپنڈی کو منظور ہو۔ جہاں میڈیا آزاد تو لگتا ہے لیکن کچھ موضوعات پر بات کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ جہاں عدالتیں بھی ہیں لیکن فیصلے اوپر سے آتے ہیں۔ جہاں احتجاج بھی ہو سکتا ہے لیکن صرف اتنا جتنا اسٹیبلشمنٹ کو منظور ہو۔ پاکستان میں 75 سال سے یہی ہو رہا ہے۔ کبھی براہ راست مارشل لا، کبھی سویلین حکومت کے لبادے میں فوجی کنٹرول۔ نام بدلتے رہے، بنیادی جمہوریتیں، احتساب، نیا پاکستان — لیکن نظام وہی رہا۔ جو فوج کو منظور وہ وزیراعظم، جو نامنظور وہ یا تو جیل میں یا جلاوطنی میں۔
ہندوستان کے ساتھ بنیادی فرق یہ ہے کہ وہاں فوج بیرکوں میں ہے اور جمہوریت کی جڑیں 75 سال میں مضبوط ہوئی ہیں۔ وہاں ایک نوجوان احتجاج کرتا ہے تو حکومت جھکتی ہے — پاکستان میں ایک نوجوان احتجاج کرتا ہے تو اس پر مقدمہ درج ہوتا ہے۔ وہاں چیف جسٹس نے گالی دی تو نوجوانوں نے اسے اپنی طاقت بنا لیا — پاکستان میں جب عدالتیں بولتی ہیں تو اکثر وہی بولتی ہیں جو "اوپر” سے طے ہوتا ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی نے دنیا کو یہ ثابت کیا کہ جب نوجوان متحد ہوں، جب ان کے مطالبات واضح ہوں، جب وہ کسی سیاسی جماعت کا آلہ کار نہ بنیں اور جب وہ ڈر کو اپنی طاقت بنا لیں تو کوئی بھی حکومت انہیں نہیں روک سکتی۔ پاکستان کا نوجوان کمزور نہیں، بزدل نہیں — وہ بھی ہندوستانی نوجوان جتنا باصلاحیت اور جرات مند ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہندوستان میں اس نوجوان کے پاس آزادی ہے، جمہوریت ہے، ایک ایسا نظام ہے جہاں عوام کی آواز کو خطرہ نہیں سمجھا جاتا۔
پاکستان میں یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسٹیبلشمنٹ سیاست کی ڈور اپنے ہاتھ میں رکھے گی، جب تک ووٹ کی بجائے بوٹ کو اہمیت ملتی رہے گی اور جب تک احتجاج کو جرم اور جرم کو احتجاج کہا جاتا رہے گا۔ کاکروچ پارٹی کا پیغام صرف ہندوستان کے لیے نہیں — یہ پیغام پاکستان کے ہر اس نوجوان کے لیے ہے جو تبدیلی چاہتا ہے لیکن ڈرا ہوا ہے۔ ڈر ختم کرو — یہی پہلا قدم ہے۔
اعظم
کالم نگار، Dailyatz
