ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کے مطابق معاملے کا آغاز کریپٹو کرنسی کے ایک کاروباری تنازع سے ہوا۔ پولیس کے مطابق دونوں غیر ملکی خواتین 26 جون کو اسلام آباد پہنچیں اور 29 جون کو لاہور آئیں، جہاں بعد ازاں انہیں مبینہ طور پر روک لیا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق سیف سٹی پر کال موصول ہونے کے بعد خواتین کی بازیابی کے لیے کارروائی شروع کی گئی۔ گاڑیوں کی نقل و حرکت، سی سی ٹی وی فوٹیج اور رجسٹریشن ریکارڈ کی مدد سے ملزمان کو ٹریس کیا گیا۔
ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق خواتین کی بازیابی کے لیے سرگودھا میں بھی چھاپہ مارا گیا، جبکہ ایک گھر پر کارروائی کے دوران اہلِ خانہ نے بتایا کہ وہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے رشتہ دار ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گاڑی کی لوکیشن اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کی مدد سے مرکزی ملزم رضا ڈار کو ٹریس کیا گیا۔ کیس میں اب تک متعدد ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ فرانزک، میڈیکل اور ڈیجیٹل شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے واضح کیا کہ کیس میں کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہوئی اور کارروائی قانون کے مطابق کی جا رہی ہے۔ پولیس کے مطابق دونوں متاثرہ خواتین کے متعلقہ سفارتخانوں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق اس مرحلے پر گرفتار افراد کو ملزم کہا جائے گا، مجرم نہیں، کیونکہ الزامات کا حتمی فیصلہ عدالت شواہد اور قانونی کارروائی کے بعد کرے گی۔

