واشنگٹن / تہران — دنیا نے گزشتہ دو ہفتے سانس روک کر گزارے۔ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملے، ایران کی بندرگاہوں پر امریکی بمباری، تیل کی قیمتوں میں آسمانی اچھال اور تیسری عالمی جنگ کا خوف — لیکن آج اچانک ایک خاموشی چھا گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی روکنے کا حکم دے دیا ہے۔
13 دن کی جنگ کا پس منظر
یہ سب اس وقت شروع ہوا جب ایران نے آبنائے ہرمز میں قطر اور سعودی عرب کے تین تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا۔ امریکہ نے اسے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اور جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایران کے ساحلی علاقوں، بندر عباس، جزیرہ قشم اور سیریک پر حملے شروع کر دیے۔ ایران نے بھی جوابی کارروائیاں جاری رکھیں اور آبنائے ہرمز میں مزید ٹینکروں کو نشانہ بناتا رہا۔ یہ سلسلہ مسلسل 13 دن تک جاری رہا۔
ٹرمپ نے حملے کیوں روکے؟
امریکی میڈیا کے مطابق حملے روکنے کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ ٹرمپ جائزہ لے رہے ہیں کہ تہران نئے معاہدے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔ دوسری اور زیادہ چونکا دینے والی وجہ یہ ہے کہ امریکی فوجی سازوسامان کے ذخائر تیزی سے کم ہونا شروع ہو گئے تھے جس کے باعث آگے بڑھنا مشکل ہو رہا تھا۔ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے مثبت رویہ نہ اپنایا تو کارروائی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔
ایران کا سخت موقف
ایران نے فوری طور پر واضح کر دیا کہ یہ وقفہ اس کی کمزوری نہیں۔ ایرانی قیادت نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے دوبارہ حملے شروع کیے تو جنگ مزید پھیلے گی۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت کی شقوں پر عمل ہونا لازمی ہے اور جب تک دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہے گا، حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات ممکن نہیں۔
پاکستان کا اہم کردار
اس پوری صورتحال میں پاکستان نے ثالث کا کردار برقرار رکھا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف دونوں فریقوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے اور اسلام آباد MOU کو بحال کرانے کی پس پردہ کوششیں جاری ہیں۔ پاکستان کی یہ سفارتی فعالیت خطے میں اس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی عکاسی کرتی ہے۔
دنیا کا سانس ابھی اٹکا ہوا ہے
فوری جنگ بندی تو ہو گئی ہے لیکن بنیادی تنازعہ ابھی حل نہیں ہوا۔ آبنائے ہرمز کا مسئلہ، ایران کا جوہری پروگرام، تیل کی عالمی سپلائی اور پابندیوں کا معاملہ ابھی بھی میز پر ہے۔ دنیا بھر کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ کیا یہ خاموشی حقیقی امن کی شروعات ہے یا اگلے طوفان سے پہلے کی خاموشی۔
