کراچی: لیاری ایکسپریس وے ری سیٹلمنٹ منصوبے میں مبینہ بے ضابطگیوں اور کرپشن کی تحقیقات کے دوران قومی احتساب بیورو (نیب) نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے متعدد مکانات اور زیرِ تعمیر کمرشل پلازوں کو سیل کر دیا۔
نیب حکام کے مطابق کارروائی متعلقہ ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے کی گئی، جہاں ری سیٹلمنٹ منصوبے کے لیے مختص پلاٹوں کے غیر قانونی استعمال اور مبینہ جعلی الاٹمنٹس کی تحقیقات جاری ہیں۔ ابتدائی کارروائی کے دوران 20 مکانات اور مختلف زیرِ تعمیر پلازوں کو سرکاری تحویل میں لے کر سیل کیا گیا۔
تحقیقات کے مطابق منصوبے میں بعض سرکاری اہلکاروں، پراپرٹی ڈیلرز اور دیگر افراد کی مبینہ ملی بھگت سے متاثرین کے نام پر مختص پلاٹوں کی جعلی فائلیں تیار کر کے غیر متعلقہ افراد کو فروخت کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ نیب کا کہنا ہے کہ بعض رفاہی مقاصد کے لیے مختص پلاٹس بھی غیر قانونی طور پر فروخت کیے گئے۔
تحقیقاتی حکام کا مزید کہنا ہے کہ مبینہ فراڈ سے حاصل ہونے والی رقم کو مختلف جائیدادوں اور دیگر سرمایہ کاری میں منتقل کیے جانے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں، جن کی مزید چھان بین جاری ہے۔
لیاری ایکسپریس وے ری سیٹلمنٹ منصوبہ ان خاندانوں کی بحالی کے لیے شروع کیا گیا تھا جو لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر کے باعث بے گھر ہوئے تھے۔ تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران اس منصوبے میں جعلی الاٹمنٹس، غیر قانونی پلاٹوں کی خرید و فروخت اور اربوں روپے کی مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔
نیب نے واضح کیا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور اگر مزید بے ضابطگیوں یا غیر قانونی قبضوں کے شواہد ملے تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے