اسلام آباد: پاکستان نے بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کے حالیہ بیانات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں انتہائی اشتعال انگیز، غیر ذمہ دارانہ اور جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔ دفترِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ بھارت کو پاکستان کے عزم اور کسی بھی ممکنہ مہم جوئی کا جواب دینے کی صلاحیت کے بارے میں غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے۔
بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے کارگل وجے دیوس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف سخت بیان بازی کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا اور اگر مستقبل میں کوئی بات چیت ہوئی تو وہ صرف پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے معاملے پر ہوگی۔
راج ناتھ سنگھ نے دعویٰ کیا کہ آزاد جموں و کشمیر بھارت کا حصہ ہے اور پاکستان نے اس پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت اپنی افواج کو کسی بھی خطرے کا فیصلہ کن جواب دینے کی مکمل آزادی دے چکا ہے۔
بھارتی وزیرِ دفاع نے پاکستان کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی ہر مبینہ مہم جوئی کا ایسا جواب دیا جائے گا جو اس کے تصور اور توقع سے بھی زیادہ سخت ہوگا۔ انہوں نے حالیہ بھارتی فوجی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں بھارت کی دفاعی صلاحیت اور سیاسی عزم کا ثبوت بھی قرار دیا۔
راج ناتھ سنگھ نے پاکستان پر دہشت گردی اور انتہا پسندی کی حمایت کے الزامات بھی عائد کیے۔ انہوں نے بھارت اور پاکستان کا تقابل کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بھارت ترقی اور ٹیکنالوجی کے مراکز قائم کر رہا ہے، جبکہ پاکستان انتہا پسندی کے مراکز پیدا کر رہا ہے۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے ان بیانات پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی وزیرِ دفاع کے ریمارکس بھارت کی جانب سے علاقائی امن کو دھمکانے اور کشیدگی بڑھانے کی دانستہ پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں۔
دفترِ خارجہ کے مطابق جموں و کشمیر بھارت کا داخلی معاملہ نہیں بلکہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازع ہے۔ اس مسئلے کا حتمی حل اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔
پاکستان نے بھارتی قیادت کے ان دعوؤں کو بھی مسترد کیا کہ آزاد جموں و کشمیر بھارت کا حصہ ہے۔ دفترِ خارجہ نے کہا کہ بھارتی رہنماؤں کے بار بار دعوے کرنے سے زمینی حقائق یا جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت تبدیل نہیں ہو سکتی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ بھارت کی اشتعال انگیز بیان بازی خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ دونوں ممالک جوہری طاقتیں ہیں، اس لیے بھارتی قیادت کو دھمکیوں اور جنگی زبان کے بجائے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی رہنماؤں کے دھمکی آمیز بیانات اور علاقائی امن کو متاثر کرنے والے اقدامات کا نوٹس لے۔ دفترِ خارجہ کے مطابق بین الاقوامی برادری کو جموں و کشمیر کے تنازع کے منصفانہ اور پُرامن حل کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
پاکستان نے واضح کیا کہ وہ خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے، تاہم اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ کسی بھی بھارتی مہم جوئی کا بروقت اور مؤثر جواب دیا جائے گا، جبکہ بھارت کو پاکستان کے دفاعی عزم کو کمزور سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے۔
