اسلام آباد/جنیوا: اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹر برائے تشدد (Special Rapporteur on Torture) ایلس جے ایڈورڈز نے پاکستان کے سابق وزیرِاعظم عمران خان کی حراستی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ گزشتہ 33 ماہ سے تقریباً مکمل تنہائی میں ایک چھوٹے، بغیر کھڑکی والے سیل میں قید ہیں، جہاں ان کی 24 گھنٹے سی سی ٹی وی نگرانی کی جاتی ہے۔
ایلس جے ایڈورڈز کے مطابق عمران خان کو اکثر اوقات دو ہفتوں سے بھی زائد عرصے تک نہ ورزش کی اجازت دی جاتی ہے اور نہ ہی کسی انسانی رابطے کا موقع ملتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال درست ہے تو یہ اقوام متحدہ کے "منڈیلا رولز” (Nelson Mandela Rules) کی کھلی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتی ہے۔
انہوں نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ عمران خان کے لیے فوری طور پر انسانی، باوقار اور بین الاقوامی معیار کے مطابق قیدیوں کے حالاتِ زندگی بحال کیے جائیں اور ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
واضح رہے کہ "منڈیلا رولز” اقوام متحدہ کے وہ بین الاقوامی اصول ہیں جو قیدیوں کے ساتھ انسانی اور باوقار سلوک کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔
پاکستانی حکام کی جانب سے اس بیان پر سرکاری مؤقف سامنے آنے کی صورت میں اسے بھی خبر میں شامل کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے