ٹراروبا، ٹرینیڈاڈ: پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے مقابلے کا آغاز دلچسپ انداز میں ہوا، تاہم پہلے روز کا کھیل مجموعی طور پر میزبان ویسٹ انڈیز کے نام رہا۔ بارش اور خراب روشنی سے متاثرہ دن کے اختتام پر ویسٹ انڈیز نے 67 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر 194 رنز بنا کر مضبوط پوزیشن حاصل کر لی۔
ویسٹ انڈیز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا، تاہم پاکستان کے فاسٹ باؤلرز نے نئی گیند سے عمدہ آغاز کرتے ہوئے میزبان ٹیم کو ابتدا ہی سے دباؤ میں رکھا۔ محمد عباس نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے برینڈن کنگ کو صرف 12 رنز پر بولڈ کر دیا، جس سے ویسٹ انڈیز کا آغاز توقعات کے مطابق نہ ہو سکا۔
ابتدائی نقصان کے بعد ٹیگنرائن چندرپال نے اننگز کو سنبھالنے کی کوشش کی اور کاویم ہوج کے ساتھ دوسری وکٹ کے لیے 51 رنز کی اہم شراکت قائم کی۔ چندرپال 21 رنز بنا کر عامر جمال کی گیند پر آؤٹ ہوئے، جبکہ کچھ ہی دیر بعد محمد عباس نے عامر جانگو کو بھی 21 رنز پر ایل بی ڈبلیو کر کے پاکستان کو تیسری کامیابی دلائی۔
تین وکٹیں جلد گرنے کے باوجود ویسٹ انڈیز کے مڈل آرڈر نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ کاویم ہوج نے انتہائی صبر آزما اور معیاری اننگز کھیلتے ہوئے 181 گیندوں پر ناقابلِ شکست 83 رنز بنائے، جس میں 9 چوکے شامل تھے۔ ان کا بھرپور ساتھ کپتان شائے ہوپ نے دیا، جو 39 رنز بنا کر دن کے اختتام تک ناٹ آؤٹ رہے۔
دونوں بلے بازوں نے چوتھی وکٹ کے لیے 88 رنز کی ناقابلِ شکست شراکت قائم کر کے پاکستان کو مزید کامیابیاں حاصل کرنے سے روک دیا اور اپنی ٹیم کو مستحکم پوزیشن میں پہنچا دیا۔
پاکستان کی جانب سے محمد عباس سب سے کامیاب باؤلر رہے، جنہوں نے 19 اوورز میں 44 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں۔ عامر جمال نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا، جبکہ خرم شہزاد، محمد علی اور ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے علی عثمان نے نظم و ضبط کے ساتھ بولنگ کی لیکن انہیں کوئی وکٹ نہ مل سکی۔
بارش اور خراب روشنی کے باعث پہلے روز مکمل کھیل ممکن نہ ہو سکا اور صرف 67 اوورز ہی کروائے جا سکے۔ موسم کی مداخلت کے باوجود دونوں ٹیموں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا، تاہم دن کے اختتام پر ویسٹ انڈیز نسبتاً مضبوط پوزیشن میں دکھائی دی۔
اب میچ کے دوسرے روز پاکستان کی کوشش ہوگی کہ وہ جلد از جلد باقی ماندہ سات وکٹیں حاصل کر کے ویسٹ انڈیز کو بڑے اسکور سے روک دے، جبکہ میزبان ٹیم کی نظریں اپنی پہلی اننگز کو 300 سے زائد رنز تک پہنچا کر میچ پر مضبوط گرفت قائم کرنے پر ہوں گی۔ پہلے روز کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے دوسرے دن کا کھیل دونوں ٹیموں کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

