انہوں نے بتایا کہ تہران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے نئی پالیسی، ٹریفک مینجمنٹ اور ممکنہ فیس کے نظام پر غور کر رہا ہے۔ ان کے مطابق نئی حکمتِ عملی میں دوست ممالک کے مفادات کو خصوصی اہمیت دی جائے گی۔عبدالرضا رحمانی کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز ایران کی قومی سلامتی سے جڑا معاملہ ہے اور اس حوالے سے نئی حکمتِ عملی تیار کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے انتظامات اور تعاون کے نئے فریم ورک پر مل کر کام کریں گے۔آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا اہم ترین بحری راستہ ہے، اس لیے ایران کی مجوزہ پالیسی کو خطے اور عالمی توانائی کی منڈیوں کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے