ٹرینیڈاڈ: پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان جاری پہلے ٹیسٹ میچ تیسرے روز کے اختتام پر انتہائی دلچسپ مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ دوسرے روز میزبان ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 311 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی، جس میں شائی ہوپ 92، کیوم ہوج 84 اور جسٹن گریوز 43 رنز کے ساتھ نمایاں رہے، جبکہ پاکستان کی جانب سے محمد علی نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 4 وکٹیں حاصل کیں، محمد عباس نے 3، عامر جمال نے 2 اور خرم شہزاد نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
پاکستان نے جواب میں مشکلات کے باوجود بہترین مزاحمت کی۔ اوپنر اذان اویس بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے، تاہم اس کے بعد شان مسعود اور امام الحق نے دوسری وکٹ کے لیے 155 رنز کی شاندار شراکت قائم کر کے اننگز کو سنبھالا۔ امام الحق 63 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جبکہ سابق کپتان شان مسعود نے ذمہ دارانہ اور دلیرانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 109 رنز کی شاندار سنچری اسکور کی۔ ان کے علاوہ بابر اعظم 38، سعود شکیل 24، سلمان علی آغا 17 اور دیگر بلے باز خاطر خواہ مزاحمت نہ کر سکے، جس کے باعث پوری پاکستانی ٹیم 282 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی اور ویسٹ انڈیز کو پہلی اننگز میں 29 رنز کی برتری حاصل ہو گئی۔ ویسٹ انڈیز کی جانب سے جسٹن گریوز نے تباہ کن بولنگ کرتے ہوئے 5 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ کیمار روچ نے 2 وکٹیں اپنے نام کیں۔
دوسری اننگز میں ویسٹ انڈیز نے محتاط آغاز کیا، تاہم پاکستانی بولرز نے مسلسل دباؤ برقرار رکھا۔ تیسرے روز کھیل ختم ہونے تک ویسٹ انڈیز نے 7 وکٹوں کے نقصان پر 126 رنز بنا لیے تھے۔ ٹیگنرائن چندرپال 35 رنز کے ساتھ نمایاں رہے، جبکہ شمار جوزف 22 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ تھے۔ پاکستان کی جانب سے محمد عباس نے ایک مرتبہ پھر شاندار بولنگ کرتے ہوئے 3 وکٹیں حاصل کیں، خرم شہزاد نے 2 جبکہ عامر جمال اور محمد علی نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ یوں پہلی اننگز کی 29 رنز کی برتری ملا کر ویسٹ انڈیز کو 155 رنز کی مجموعی برتری حاصل ہو چکی ہے، جبکہ اس کی ابھی تین وکٹیں باقی ہیں۔
اب میچ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ پاکستان کی کوشش ہوگی کہ چوتھے روز ویسٹ انڈیز کی باقی ماندہ وکٹیں جلد سمیٹ کر ہدف کو قابلِ رسائی رکھے، جبکہ میزبان ٹیم اپنی برتری کو مزید بڑھا کر پاکستان پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کرے گی۔ کرکٹ ماہرین کے مطابق اب بھی میچ کسی بھی ٹیم کے حق میں جا سکتا ہے اور چوتھے روز کا کھیل اس مقابلے کا رخ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
